13 دسمبر 2014 - 19:46
امریکا ميں عدل و انصاف کي موت کا سوگ

امريکا ميں سياہ فام عوام کے خلاف پوليس کے تشدد اور نسل پرستي نيز امريکي عدليہ کي بے عدالتي کے خلاف ملک گير مظاہرے جاري ہيں -

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق نيويارک کے مختلف علاقوں ميں پوليس اسٹيشنوں کے باہر لوگوں نے اجتماع کرکے پوليس کي نسل پرستي اور سياہ فاموں کے ساتھ تشدد کي مذمت کي –

رپورٹوں ميں بتايا گيا ہے کہ پوليس اسٹيشنوں کے باہر احتجاجي اجتماع کرنے والوں نے ، سيٹياں بجاکے اپنا احتجاج ريکارڈ کرايا –
نيويارک سے ہمارے نمائندے کے مطابق اسي طرح، مظاہرين کي ايک تعداد نے نيويارک کي ايک رہائشي کالوني کے سامنے بھي اجتماع کيا جس کے لئے بتايا جاتا ہے کہ وہاں پوليس سياہ فاموں کے ساتھ زيادہ بدسلوکي کرتي ہے –
مظاہرين نے اس کالوني سے پوليس اسٹيشن تک مارچ کيا اور وہاں پہنچ کے سيٹياں بجائيں –

اجتماعي جيلوں کو بند کرو نامي ايک تنظيم نے اعلان کيا ہے کہ امريکا ميں سياہ فام عوام کے ساتھ پوليس کي بدسلوکي ، وحشيگري ميں تبديل ہوچکي ہے - اس تنظيم نے متعدد علاقوں ميں پوليس کے خلاف احتجاجي مظاہروں کا اہتمام کيا ہے - اس کا کہنا ہے کہ ہم نے يہ طے کيا ہے کہ پوليس اسٹيشنوں کے سامنے جمع ہوکے احتجاج کے طور سيٹياں بجائي جائيں –
قابل ذکر ہے کہ سيٹياں بجاکے امريکي پوليس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ہفتے امريکي عدليہ کي جانب سے اس سفيد فام پوليس افسر کو بري کئے جانے بعد شروع ہوا ہے جس نے اريک گارنر نامي سياہ فام شہري کا گلا دبا کے قتل کيا تھا -
اس سلسلے ميں نيويارک ميں کرائے گئے ايک سروے ميں شرکت کرنے والوں کي اکثريت نے کہا ہے کہ اريک گارنر کے قتل کے کيس ميں عدالت نے انصاف نہيں کيا ہے –
ايک مظاہرہ نيوياريک کے ٹائمز اسکوائر پر کيا گيا جس ميں ہزاروں سياحوں نے حصہ ليا - اس مظاہرے کے دوران احتجاج کرنے والوں نے ايسے سو سے زائد افراد کے ناموں کي تختي اپنے ہاتھوں ميں اٹھارکھي تھي جو پوليس کے تشدد ميں مارے گئے ہيں - بتايا گيا ہے کہ اس مظاہرے کا اہتمام امريکي فنکاروں کے ، ہم خاموش نہيں رہيں گے، نامي گروہ نے کيا تھا –
اسي طرح مينہٹن ميں بھي بڑي تعداد ميں لوگوں نے شہري کونسل کے سامنے اجتماع کيا اور پوليس کي نسل پرستي اور تشدد کے خلاف نعرے لگـائے -
دوسري جانب جمعے کي رات واشنگٹن ميں لوگوں نے ملک سے عدل انصاف کا جنازہ اٹھ جانے کے سوگ ميں شمعيں روشن کيں - ہمارے نمائندے کے مطابق واشنگٹن کي ديني انجمنوں کے اراکين نے جمعے کي رات سياہ فام امريکيوں قاتل سفيد فام پوليس افسروں کو عدالت سے بري کئے جانے کو ملک ميں عدل و انصاف کي موت قرارديا اور اس سوگ ميں واشنگٹن کي سيکسٹينتھ اسٹريٹ پر شمعيں روشن کيں –
مظاہرين کے ہاتھوں ميں ايسے اعلانات اور پلے کارڈ بھي تھے جن پر امريکي عدليہ کے بے عدالتي کي مذمت ميں نعرے درج تھے –
يہ مظاہرے حال ہي ميں پوليس کے ہاتھوں قتل ہونے والے سياہ فام باشندوں، اريک گارنر، مائيکل براؤن اور تمير رائس کے لواحقين کي قيادت ميں انجام پائے –
دوسري طرف پوليس کي فائرنگ ميں مارے جانے والے ايک بارہ سالہ سياہ فام لڑکے کے پوسٹ مارٹم کي رپورٹ ميں اس بات کي تصديق کردي گئي ہے کہ اس کي موت پوليس کي چلائي ہوئي گوليوں سے ہوئي ہے –
مقامي ذرائع نے بتايا ہے کہ کلائيو لينڈ ميں پوليس کي فائرنگ ميں مارے جانے والے بارہ سالہ سياہ فام امريکي بچے کے پوسٹ مارٹم کي رپورٹ ميں بتايا گيا ہے کہ اس کے جسم پر پوليس کي گوليوں کے نشان ہيں اور اسي سے اس کي موت واقع ہوئي ہے –
ياد رہے کہ يہ بارہ سالہ سياہ فام بچہ ايک کھلونا گن سے کھيل رہا تھا کہ ايک پوليس افسرنے اس کو گوليوں سے بھون ڈالا –

اس سياہ بچے پر فائرنگ کرنے والے پوليس افسرنے دعوي کيا ہے کہ اس نے بچے کے ہاتھ ميں موجود کھلونا گن کو اصلي گن سمجھ کے اس پر فائرنگ کي تھي - مگر اس بچے کي والدہ کا کہنا ہے کہ اگر پوليس کو شک تھا تو پہلے اس کو وارننگ دي جاتي - اگر بچے کو وارننگ دي گئي ہوتي تو وہ گن پھينک کے اپنے ہاتھ اوپر اٹھاديتا -

کلائيو لينڈ ميں سياہ فام عوام کے تئيں پوليس کي نسل پرستي اور تشدد کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کا مطالبہ ہے کہ قاتل پوليس افسر کو سزا دي جائے اور شہر کے سيکورٹي ڈائريکٹر اور شہري انتظاميہ کے ذمہ داروں کو برطرف کيا جائے –
.......

/169